اس شہر نے مجھے ہنسنا، بولنا اور جینا سکھایا

میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ حیدرآباد میں روزی روٹی تلاش کرتے ہوئے اس شہر کے ماضی کی یادوں کو سمیٹتا جاؤں گا۔ خوش نصیب ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے اس شہر کے گلی کوچوں اورمحلوں میں اپنی زندگی گزاری ہے، یہاں کے ہوا پانی اور ماحول میں رہ کر اس کو خوشبودار بنایا، ان یادوں کے سایوں اور باتوں کے اجالوں میں حیدرآباد کی پچھلی صدیوں کی سیر کرنے کا موقع مجھے ملا۔ لوگوں سے ملنے اور ان کے بارے میں جاننے ا ور لکھنے کی شروعات تو اسکول کے زمانے سے ہی ہوئی تھی اور اس ڈائری کو امّی نے آج بھی ایک صندوق میں محفوظ رکھا ہے۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ رہنمائے دکن، پرجا سہایتا، ہندی ملاپ، روزنامہ منصف، اعتماد، سیاست، ماہنامہ شگوفہ، یور اسٹوری جیسے اردو اور ہندی کے موقر اخبارات اور ویب سائٹ نے میری حوصلہ افزائی کی۔

 

جہاں تک اردو میں لکھنے کی بات ہے تو مشہور مزاح نگارمسیح انجم نے میرے کان پکڑے، ہاتھ تھاما، پیٹھ تھپتھپائی، نئی خوبصورت
شاہراہوں کا مسافر بننے کی ترغیب دی۔پھر تو لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا والی بات ہو گئی۔ میرے رہبروں اور ہم سفروں کی فہرست میں دو اور نام اہم ہیں ،شگوفہ کے ایڈیٹر ڈاکٹر مصطفی کمال اور مزاح نگار پرویز یداللہ مہدی۔ انہوں نے ایک ایسے لڑکے کو جس نے مراٹھی اور ہندی سے اپنی مادری زبان اردو کی جانب رخ کیا تھا۔ احساس کمتری کا شکار ہونے نہیں دیا۔
 
جب میں نے روزنامہ ہندی ملاپ میں ملازمت اختیار کی تو اردو تحریروں کا سلسلہ ایک طویل عرصے تک رکا رہا اور پھر اس کے بعد اپنے دور کے مشہور صحافی اور منصف کے اسوسیٹ ایڈیٹر عطا محمد اور ایڈیٹر نسیم عارفی نے مجھے اردو میں کالم لکھنے پر آمادہ کیا۔ یہ کالم اپنی نوعیت کا منفرد کالم ‘ہجوم میں چہرہ’ تھا، جو اردو زبان کے عوام و خواص میں پسند کیا گیا۔ اردو زبان کے صحافی اور کالم نگار کے طور پر یہ میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی رہی۔ اس کالم نے مجھے نئی زندگی دی نیا حوصلہ دیا ۔ صحافتی برادری نے پزیرائی کی اور قارئین کرام نے ایک ادنی سے قلمکار کو عز ت بخشی۔ آج بھی یہ کالم لوگوں کے ذہن میں اپنے دور کی یادیں تازہ کرتا ہے۔ اسی کالم کا مجموعہ میری اردو کی پہلی کتاب کے طور پر شائع بھی ہوا۔ ملاپ کے ایڈیٹر وینے ویر کی سر پرستی میں ہندی میں بھی ایسی تحریروں کا سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دور ایسا بھی رہا، جب ایک ہفتے میں دو اخباروں میں چار کالم شائع ہونے لگے۔
 
اردو میں میری دوسری کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ دیکھا جائے تو اس کتاب کا سلسلہ بھی ‘ہجوم میں چہرہ’ کے برابر ہی 1999ء میں ہندی ملاپ میں ‘نچھاور’ کے عنوان سے شروع ہوا تھا، لیکن اردو میں اس کتاب کا سہرا پوری ایمانداری سے کسی کے سر جا تا ہے تو و ہ بلا شبہ نسیم عارفی ہیں۔ روزنامہ اعتماد کے ایڈیٹر بنائے جانے کے بعد انہوں نے بہت سارے سماجی موضوعات پر لکھنے کا موقع دیا اور ‘میری یادیں میری باتیں’ جیسا کالمتقریباً دو سال تک چلتا رہا۔ اس دوران ان شخصیتوں سے ملنے کا موقع ملا، جو اپنے ماضی کے صفحات پر حیدرآباد سے منسلک بے شمار کہانیاں تحریر کر چکے تھے۔ یہی سلسلہ بعد میں روزنامہ سیاست میں ‘حیدرآباد جو کل تھا’ کالم میں بھی جاری رہا۔ عسکری جعفر اور راجیشوری کلیانم نے ان میں سے کچھ کالموں کو ‘ہنس انڈیا’ کے ذریعہ انگریزی قارئین تک پہنچایا۔ مسلسل مجھے اپنی فکروں میں شامل رکھنے والے شاعر رفیق جعفر، پرنسس اندرا دیوی دھنراج گیر ، مزاح اور صحت کا ادب لکھنے والے ڈاکٹر عابد معز، وویک وردھنی کالج کی پرنسپل ڈاکٹر ریکھا شرما، بھائی ڈاکٹر خلیل صدیقی، افتخارعابد پیارے، ایم اے باسط، سید غوث محی االدین منیر، نعیم وجاہت ، اطہر معین، مبشر خرم ، عبد الرحمٰن خان، محمد ارشد اور موسیقار جے ونت نائیڈو کو اللہ صحت مند رکھے۔کہ ان شخصیتوں کی حوصلہ افزائی اور دعاؤں کے طفیل یہ کتاب اہل ذوق حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کے لائق ہوا ہوں۔ اس کتاب کی کمپوزنگ کے لئے میرے دوست شاہنواز شاہ کا شکریہ ادا کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اُمید کرتا ہوں کہ ہندی ملاپ، اعتماد، سیاست اور منصف کے میرے ساتھی صحافیوں کے مفید مشوروں کا سلسلہ ہمیشہ کی طرح جاری رہے۔
 

دعا گو ہوں کہ راتوں میں میرے جاگنے کے لئے فکر مند امّی، ہر حالت میں ساتھ نبھانے والی بیگم زلیخا اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے بچے سمیر، سعید اور کبیر کا ساتھ ہمیشہ بنا رہے۔

 

 

Comments are closed.